نئی دہلی،14؍ جولائی (ایس او نیوز) کیرالہ میں سفارتی ذرائع سے کی گئی سونے کی اسمگلنگ معاملہ میں ہائی کورٹ کی طرف سے ملزمین کو ضمانت دئے جانے پر داخل کی گئی اپیل پر سپریم کورٹ کی بینچ نے کہا کہ وہ اس سوال پر غور کرنے کے لئے تیار ہے کہ سونے کی اسمگلنگ کو یو اے پی اے کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جوڑا جا سکتا ہے یا نہیں؟
یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اس وقت سامنے آیا جب چیف جسٹس این وی رامنّا، جسٹس اے ایس بوپنّا اور جسٹس رشی کیش روئے اس اپیل کی سماعت کر رہے تھے جو سفارتی ذریعہ سے گولڈ اسمگلنگ کیس کے ملزمین کو کیرالہ ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف این ایس اے ( نیشنل سیکوریٹی ایجنسی) نے داخل کی تھی ۔
انگریز ی میڈیا میں آئی رپورٹ کے مطابق کیرالہ ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کی طرف سے دئے گئے ضمانت کے فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے ملزمین کے خلاف دہشت گردی روک تھام قانون یو اے اپی اے کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کردیا تھا اور گولڈ اسمگلنگ کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کے جواز کو قبول نہیں کیا تھا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) کے ایم نٹراج مرکز کی طرف سے عدالت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے ہائی کورٹ کے آرڈر کو سپریم کورٹ میں جمع کرایا جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے صرف ضمانت اور سرکاری ملازمین کا مسئلہ ہے اور ہم اسی کے تعلق سے محدود نوٹس جاری کررہے ہیں۔ اس پر سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ اس معاملہ پر پہلے ہی سے ایک اسپیشل لیو پیٹیشن (ایس ایل پی) اس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کے جواب میں عدالت نے کہا کہ ہم نے قانون سے متعلق مسئلہ پر نوٹس جاری کیا ہے اور اس التواء میں رکھی ہوئی ایس ایل پی کو اس سے نتھی کردیا ہے۔
کیرالہ گولڈ اسمگلنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی این آئی اے نے ملزمین پر دراصل دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام قانون یو اے پی اے کی دفعہ 15(1) (a) اور (iiia) لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ملزمین نے سونے کی اسمگلنگ کے ذریعے ملک کو اقتصادی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے اس توضیح کو ماننے اور گولڈ اسمگلنگ کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کا جز قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے، جہاں اسپیشل لیو پیٹیشن اور ضمانت کے خلاف داخل کی گئی اپیل کے دوران گولڈ اسمگلنگ کو یو اے پی اے کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کے بارے میں سماعت اور فیصلہ کیا جائے گا۔